تاریخ

شہرکریمنگر، ضلع کریمنگرکا انتظامیہ ہیڈ کوائٹر،ریاست تلنگانہ کےصدرمقام حیدرآبادسے160 کیلومیٹرکی دوری پرشمال مشرق میں واقع ہے۔سید کریم الدین جنہیں اس شہر کا بانی سمجھا جاتا ہےانکے نام سےکریمنگرکا نام ماخوذ کیا گیاتھا۔کریمنگرعام طور پر “سبّیناڈو”سےبھی جاناجاتاہے۔کریمنگراور سریسائیلم کےعلاقوں میں کاکتیہ حکمرانوں پورلادوّم اورپرتاپ ردرا کےکتبہ وہ دستیاب شہادتی نمونےہیں جو ضلع کی تاریخ بیان کرتےہیں۔کریمنگر ،ریاست تلنگانہ کا ایک مشہور زرعی مرکزہے۔شہر کے اطراف واقع وسیع زرعی علاقہ کو دریاۓ گوداواری سےآبپاشی کیلئےپانی کی سربراہ کیا جاتا ہے۔شہر کے اطراف واقع ایلگندل (10 کیلو میٹر) اور ویملاواڑہ(35 کیلومیٹر)سیاحوں کے دلچسپ مقامات میں شامل ہیں۔ضلع کریمنگر ورنگل،نظام آباد،میدک اورریاست کے دیگر مقامات سےبذریعہ سڑک اچہی طرح منسلک ہیں۔ضلع کا قریبی طیران گاہ (ائیرپورٹ)حیدرآباد(160 کیلومیٹر)میں واقع ہے۔ضلع کریمنگرجنوب کی جانب اضلاع ورنگل اور میدک، مغرب میں نظام آباد،مشرق میں مدھیہ پردیش اور شمال کی جانب عادل آباد سے گھراہواہے۔
ضلع کریمنگر کا نام سید کریم الدین،قلعہ دار سے ماخوذ ہے۔ضلع کوقدیم زمانہ سے ہی ویدک تدریس کیلئےجانا جا تا رہا ہے۔کریمنگر ریا ست تلنگانہ کے صدرمقام، حیدرآبارسے165 کیلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔دریاۓ گوداواری اس جگہ کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔کئ چھوٹی اور بڑی کمپنیاں جیسےاین ٹی پی سی، کیسورام سمنٹ،رام گنڈم سنگارینی کیولیریس و غیرہ ضلع کریمنگر اور اسکے اطراف واقع ہیں۔یہاں کے مقامی مہارتی ایان سیلور فیلیگری(چاندی کے کام) میں جو ایک قسم کی دھاتی فنکاری ہےاسمیں خصوصی مہارت رکھتےہیں۔
ضلع کریمنگر کی تاریخ کی ابتداء قدیم پتھر کےدور یعنی1،48،000بی سی میں ہوئی جسکی تصدیق کریمنگر کے مختلف مقامات میں دستیاب کئے گئے آلات ، ثقافت اور دیگرمادوّں سے ہوتی ہے۔پدّا بنکو ، دھولیکٹّہ اور کوٹیلنگالومیں دستیاب کۓ گۓ باقیات اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ ضلع کریمنگر میں شاتاواہانہ، موریا اور آصف جاہی بادشاہوں نے حکمرانی کی۔ اس دور کی تعمیرات ، موجودہ دور میں ضلع کی تاریخ کےعمدہ حقائق تصور کۓ جاتے ہیں۔

کریمنگر کاعلاقہ اصل میں”ایلگندالا”کہلاتا تھا۔اس پر مغربی چالوکیہ نے حکمرانی کی اور یہ عظیم شاتاواہانہ سلطنت کی حکمرانی کا بھی حصّہ رہا بعد ازاں حیدرآباد نظاموں نےاس مقام کا نام بدل کر کریمنگر رکھا، جو سید کریم اللہ شاہ ، قلعہ دار کے نام سے ماخوذ ہے۔ضلع کریمنگر کا رقبہ 2128 اسکوئیر کیلو میٹر ہےاسکی شمالی سرحد پر جگتیال اور پداپّلی،جنوب میں ورنگل اربناور سدپیٹ، مشرق میں راجننّاسرسلّہ اورمغرب کی سمت جیاشنکر بھوپال پلّی واقع ہے۔دریاۓ مانیر پر تعمیرکردہ لوئر مانیرڈیم سیاحوں کی سیر و تفریح کا بہترین مرکز مانا جاتاہے۔دریاۓ مانیرجو دریاۓ گوداوری کا معاون ہے تعمیر کردہ ڈیم مانیراور موہیدیمدا دریاؤں کا سنگم ہےاور کریمنگر کے از قریب واقع مشہور تفریح گاہ ہے۔شہر کریمنگر کے بائیں جانب واقع قلعہاالگندل کو کاکتیہ دور میں تعمیر کیا گیا جسےبعد میں قطب شاہی حکمرانوں نے فتح کیا۔ اس قلعہ میں پتھر کی بنی دیورایں (دو)،دو مساجد،دو مندر،گولہ بارود کی عمارت،جیل خانہ،کنواں اور دیگر ساختہ چیزیں موجود ہیں۔شہر کے باہر،لوئرمانیرڈیم کے قریب واقع عجوالا پارک سیاحوں کیلۓبہترین تفریح گاہےجہاں سیاح آرام دہ اورپر سکون ماحول میں تفریح کرنا اور وقت گذارنا پسند کرتےہیں۔راجیو گاندھی ڈیر پارک جو عجوالا پارک کے قریب واقع ہے،موجودہرنوں کی زائد تعداد کیلۓمقبولیت رکھتا ہے۔کریمنگر میں موجود شیوارام وائیلڈ لائیف سانیچری جو 36.29 اسکوائیر کیلو میٹر کے رقبہ میں واقع ہےاسکا شمار ریاست کے مشہوروائیلڈ لائیف سانیچری میں کیاجاتاہے۔