دستکاری

(دستکاری ( ہینڈی کرافٹ
فلیگری فنکاری کی جڑیں اطالوی اور فرانس کے دھاتی نمونوں سے ہی ستراویں (17) تا انیسویں(19) صدی میں دیکھی جاسکتی ہیں۔فلیگری کو فیلگرین یا فیلگرینی کے نام سے بھی جانا جاتا ہےجو زیورات کے نازک دھاتی کام کی نمائندگی کرتا ہےجوعموما سونے یا چاندی سے تیار کۓ جاتے ہیں۔جنکو چھوٹے موتیوں یا دھاگوں کو موڑ کر فنکارانہ مقاصد کی تکمیل کیلۓ بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ آپس میں جوڑا جاتا ہے۔ انگریزی لفظ فیلگری کو اطالوی لفظ”فیلم”جسکے معنی دھاگےاور “گرانم” یعنی اناج کے چھوٹے دانوں کی شکل کے ہیں اخذ کیا گیا ہے۔
ریاست تلنگانہ کے علاقہ کریمنگر کو اعلی ہنر مند فنکا روں سے بھر پور علاقہ مانا جاتا ہے۔ یہاں کے فنکار نازک کاریگری جو فیلگری کے نام سے مشہور ہے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں جو چاندی کی فیلگری سے کئ اشیاء جیسے چمچے، سگریٹ کی ڈبیاں، بٹن کے ڈبّے ، زیورات،پان دان ، عطر دان وغیرہ کی تخلیق میں ماہر ہیں۔کاریگری کے علاوہ ڈیزائین جیسے مور ، طوطے،مچھلیوں کی تصاویر کو شیشے پر خوبصورتی سے تصویر کشی کرنے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ضلع کریمنگر کےما ہرین ان اشیاء کی تیاری کیلۓ چاندی کی تار کو موڑ کر انکے نازک لوپ تیار کرتے ہیں اور انکو زگزاگ طریقے میں بنکر پیچیدہ لیز کی شکل کے نہایت خوبصورت ڈیزائین تیار کرتے ہیں۔